2:113 2:117 আয়াতের গ্রুপের জন্য একটি তাফসির পড়ছেন
وقالت اليهود ليست النصارى على شيء وقالت النصارى ليست اليهود على شيء وهم يتلون الكتاب كذالك قال الذين لا يعلمون مثل قولهم فالله يحكم بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون ١١٣ ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها اولايك ما كان لهم ان يدخلوها الا خايفين لهم في الدنيا خزي ولهم في الاخرة عذاب عظيم ١١٤ ولله المشرق والمغرب فاينما تولوا فثم وجه الله ان الله واسع عليم ١١٥ وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه بل له ما في السماوات والارض كل له قانتون ١١٦ بديع السماوات والارض واذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون ١١٧
وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ لَيْسَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَقَالَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ لَيْسَتِ ٱلْيَهُودُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُمْ يَتْلُونَ ٱلْكِتَـٰبَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١١٣ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ وَسَعَىٰ فِى خَرَابِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ١١٤ وَلِلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ ١١٥ وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭا ۗ سُبْحَـٰنَهُۥ ۖ بَل لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّۭ لَّهُۥ قَـٰنِتُونَ ١١٦ بَدِيعُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ١١٧
وَقَالَتِ
الْیَهُوْدُ
لَیْسَتِ
النَّصٰرٰی
عَلٰی
شَیْءٍ ۪
وَّقَالَتِ
النَّصٰرٰی
لَیْسَتِ
الْیَهُوْدُ
عَلٰی
شَیْءٍ ۙ
وَّهُمْ
یَتْلُوْنَ
الْكِتٰبَ ؕ
كَذٰلِكَ
قَالَ
الَّذِیْنَ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
مِثْلَ
قَوْلِهِمْ ۚ
فَاللّٰهُ
یَحْكُمُ
بَیْنَهُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
فِیْمَا
كَانُوْا
فِیْهِ
یَخْتَلِفُوْنَ
۟
وَمَنْ
اَظْلَمُ
مِمَّنْ
مَّنَعَ
مَسٰجِدَ
اللّٰهِ
اَنْ
یُّذْكَرَ
فِیْهَا
اسْمُهٗ
وَسَعٰی
فِیْ
خَرَابِهَا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
مَا
كَانَ
لَهُمْ
اَنْ
یَّدْخُلُوْهَاۤ
اِلَّا
خَآىِٕفِیْنَ ؕ۬
لَهُمْ
فِی
الدُّنْیَا
خِزْیٌ
وَّلَهُمْ
فِی
الْاٰخِرَةِ
عَذَابٌ
عَظِیْمٌ
۟
وَلِلّٰهِ
الْمَشْرِقُ
وَالْمَغْرِبُ ۗ
فَاَیْنَمَا
تُوَلُّوْا
فَثَمَّ
وَجْهُ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
وَاسِعٌ
عَلِیْمٌ
۟
وَقَالُوا
اتَّخَذَ
اللّٰهُ
وَلَدًا ۙ
سُبْحٰنَهٗ ؕ
بَلْ
لَّهٗ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
كُلٌّ
لَّهٗ
قٰنِتُوْنَ
۟
بَدِیْعُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
وَاِذَا
قَضٰۤی
اَمْرًا
فَاِنَّمَا
یَقُوْلُ
لَهٗ
كُنْ
فَیَكُوْنُ
۟

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب میں تین بڑی قومیں آباد تھیں ، یہود، نصاری، اور مشرکین ۔یہود نے نبیوں اور بزرگوں سے وابستگی کو حق کا معیار بنایا۔ اس وجہ سے ان کو اپنی قوم حق پر اور دوسری قومیں باطل پر نظر آئیں ۔ نصاریٰ نے اپنے اندر یہ امتیاز دیکھا کہ اللہ نے اپنا ’’اکلوتا بیٹا‘‘ ان کے پاس بھیجا۔ مکہ کے مشرکین اپنی یہ خصوصیت سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے پاسبان ہیں ۔ اس طرح ہر گروہ نے اپنے حسب حال حق وصداقت کا ایک خود ساختہ معیار بنا رکھا تھا اور جب وہ اس معیار کی روشنی میں دیکھتا تو لامحالہ اس کو اپنی ذات بر سر حق اور دوسروں کی برسر باطل نظر آتی۔ مگر ان کی عملی حالت جس چیز کا ثبوت دے رہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ گروہ گروہ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کسی کو جب بھی موقع ملتا، وہ عبادت کے لیے بنے ہوئے خدا کے گھر کو اپنے گروہ کے علاوہ دوسرے گروہ پر بند کردیتا اور اس طرح خدا کے گھر کی ویرانی کا باعث بنتا۔ عبادت خانہ تووہ مقام ہے جہاں انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور کانپتے ہوئے داخل ہو۔ اگر یہ لوگ واقعۃً خدا والے ہوتے تو کیسے ممکن تھا کہ وہ عبادت کے لیے آنے والے کسی بندے کو روکیں یا اس کو ستائیں ۔ وہ تو اللہ کی عظمت کے احساس سے دبے ہوئے ہوتے، پھر ان سے اس قسم کی سرکشی کا صدور کیوں کر ہوسکتا تھا۔

انھوں نے اللہ کو انسان کے اوپر قیاس کیا۔ ایک انسان اگر مشرق میں ہو تو اسی وقت وہ مغرب میں نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی اسی طرح کسی خاص سمت میں موجود ہے۔ یقیناً اللہ نے اپنی عبادت کے لیے رخ کا تعین کیا ہے مگر وہ عبادت کی تنظیمی ضرورت کی بنا پر ہے، نہ اس ليے کہ خدا اسی خاص رخ میں ملتا ہے۔ اسی طرح انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے انھوں نے خدا کا بیٹا فرض کرلیا ۔ حالاں کہ خدا اس قسم کی چیزوں سے بلند وبرتر ہے۔ جو لوگ اس طرح خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتائیں، ان کے لیے خدا کے یہاں رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔