ومن ایتہ ان خلقکم ۔۔۔۔۔ تنتشرون (30: 20) ۔ مٹی مردہ اور ساکن ہے۔ اس مٹی ہی سے انسان کو پیدا کیا گیا ۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے :
لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا “۔ (المومنون :12) مٹی دراصل انسان کا اصل الاصول ہے لیکن یہاں انسانی شخصیت کے اس اصل مادے کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان مکمل شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ ذرا تخلیق انسان کے اصل مادے کو دیکھو اور پھر تخلیق شدہ مکمل انسان کو دیکھو ، دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔ خصوصاً یہ اصول بیان کرنے کے بعد کہ
یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی (30: 19) ” وہ زندہ سے مردہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کا نکال لاتا ہے “۔ قرآن کریم کے اندراز کے مطابق یہ معنوی ربط ہے۔
یہ معجزہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔ اور اس کی تشریح کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس زمین پر رہنے والے انسان اور اس زمین کا آپس میں رشتہ کیا ہے اور وہ کیا نکتہ ہے جس میں وہ باہم ملتے ہیں یعنی اپنی اصل تخلیق اور ان قوانین قدرت کے زاویہ سے جو خود انسان پر بھی نافذ ہیں اور اس کائنات پر بھی نافذ ہیں۔
اس مردہ مٹی کے اندر یہ عظیم انقلاب بذات خود ایک معجزہ ہے کہ وہ ایک مردہ اور پیش پا افتادہ شکل سے ایک انسانی ذی اقتدار اور ذی قدر کی شکل میں تبدیلی ہوگئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی اور صنعت کاری ہے جس سے اللہ جل شانہ کی عظیم صنعت کاری کا علم ہوجاتا ہے۔ انسان کا قلب و ضمیر بےساختہ اللہ کی تسبیح و تمجید پر آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اللہ جل شانہ کی اس عظیم صنعت کاری پر رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ پھر خود انسان کی زندگی کی تقسیم مرد اور عورت کی شکل میں اور ان اوصاف کا باہم تعلق اور مشترکہ زندگی کا موضوع سامنے آتا ہے۔ کیا یہ کسی خارق العادت معجزے سے کم معجزہ ہے۔