أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 101:4إلى 101:5
يوم يكون الناس كالفراش المبثوث ٤ وتكون الجبال كالعهن المنفوش ٥
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ٤ وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ ٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
٣

یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔