ولا تكونوا كالذين خرجوا من ديارهم بطرا ورياء الناس ويصدون عن سبيل الله والله بما يعملون محيط ٤٧
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ ٤٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 47 وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بَطَرًا وَّرِءَآء النَّاسِ یہ قریش کے لشکر کی طرف اشارہ ہے۔ جب یہ لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو اس کی شان و شوکت واقعی مرعوب کن تھی۔ اس کے ساتھ عیش و طرب کا سامان بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ابو جہل اور دیگر سرداران قریش اپنے غرور اور تکبر کے باعث اس زعم میں تھے کہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے اس طاقتور لشکر کے سامنے خس و خاشاک ثابت ہوں گے اور اہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے۔وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ وہ اپنی ساری کوششیں اور توانائیاں مخلوق خدا کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے تھے ‘ مگر ان کی کوئی تدبیر اللہ کے قابو سے باہر جانے والی تو نہیں تھی۔