You are reading a tafsir for the group of verses 8:36 to 8:37
ان الذين كفروا ينفقون اموالهم ليصدوا عن سبيل الله فسينفقونها ثم تكون عليهم حسرة ثم يغلبون والذين كفروا الى جهنم يحشرون ٣٦ ليميز الله الخبيث من الطيب ويجعل الخبيث بعضه على بعض فيركمه جميعا فيجعله في جهنم اولايك هم الخاسرون ٣٧
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ ٣٦ لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ٣٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ بنی اسرائیل کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔