واذا تتلى عليهم اياتنا قالوا قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل هاذا ان هاذا الا اساطير الاولين ٣١
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَآ ۙ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٣١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 31 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآلا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں یہ قول نضر بن حارث سے منسوب ہے۔ لیکن ان کی اس طرح کی باتیں صرف کہنے کی حد تک تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو بار بار یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم لوگ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں سمجھتے تو تم بھی اسی طرح کا کلام بنا کرلے آؤ اور کسی ثالث سے فیصلہ کرا لو ‘ مگر وہ لوگ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کبھی جرأت نہ کرسکے۔ اسی طرح پچھلی صدی تک عام مستشرقین بھی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ محمد ﷺ نے تورات اور انجیل سے معلومات لے کر قرآن بنایا ہے ‘ مگر آج کل چونکہ تحقیق کا دور ہے ‘ اس لیے ان کے ایسے بےت کے الزامات خود بخود ہی کم ہوگئے ہیں۔