الم تعلم ان الله له ملك السماوات والارض يعذب من يشاء ويغفر لمن يشاء والله على كل شيء قدير ٤٠
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٤٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 40 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اب یہاں پھر ذکر آ رہا ہے ان لوگوں کا جو دوغلی پالیسی پر کاربند تھے ‘ لیکن سورة البقرۃ کی طرح یہاں بھی روئے سخن قطعیت کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس کا انطباق منافقین پر بھی ہوگا اور اہل کتاب پر بھی۔ منافق اہل کتاب میں سے بھی تھے ‘ جن کا میلان اسلام کی طرف بھی تھا اور چاہتے بھی تھے کہ مسلمانوں میں شامل رہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ تو یہ لوگ جو مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک کی مثال تھے ‘ یہ دونوں طرف کے لوگ تھے۔