بعض جانور اپنے طبی اور اخلاقی نقصانات کی وجہ اس قابل نہیں کہ انسان ان کو اپنی خوراک بنائے۔ خنزیر کو اللہ تعالیٰ نے اسی سبب سے حرام قرار دیا ۔ اسی طرح جانور کے جسم میں گوشت کے علاوہ کئی دوسری چیزیں ہوتی ہیں جو انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔ انھیں میں سے خون بھی ہے۔ چنانچہ اسلام میں جانور کو ذبح كرنے كي ايك خاص صورت مقرر كي گئي هے تاكه جانور كے جسم كا خون پوري طرح بهه كر نكل جائے۔ ذبح كے سوا جانور كو مارنے کے جو طریقے ہیں ان میں خون جانور کے گوشت میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے، وہ پوری طرح اس سے الگ نہیں ہوتا۔ اسی سبب سے شریعت میں مردار کی تمام قسموں کو بھی حرام کردیاگیا۔ کیوں کہ مردار جانور کا خون فوراً ہی اس کے گوشت میں جذب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایسا گوشت بھی حرام کردیا گیا جس میں کسی طرح مشرکانہ عقیدہ کی آمیزش ہوجائے۔ مثلاً غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا یا غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور کو قربان کرنا۔ تاہم اللہ نے اپنی رحمت خاص سے یہ گنجائش دے دی کہ کسی کو بھوک کی ایسی مجبوری پیش آجائے کہ اس کو موت یا حرام خوراک میں سے ایک کو لینا ہو تو وہ موت کے مقابلہ میں حرام خوراک کو اختیار کرے۔
’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘، یعنی تم کو جو احکام ديے جانے تھے وہ سب دے ديے گئے۔ تمھارے لیے جو کچھ بھیجنا مقدر کیا گیا وہ سب بھیجا جاچکا۔ یہاں علی الاطلاق دین کے کامل كيے جانے کاذکر نهيں ہے بلکہ امت محمد ی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ نزول کی تکمیل کا ذکر ہے، نہ کہ دین کی تکميل کا۔ اسی لیے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ’’آج میں نے دین کو کامل کردیا‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیاگیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان کے پاس نہیں بھیجا۔
قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کردیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جاچکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔