آیت 46 مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑکر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیتے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو احکام الٰہی سن کر کہتے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ بظاہر وہ اہل ایمان کی طرح سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا کہہ رہے ہوتے لیکن زبان کو مروڑ کر حقیقت میں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔ وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وہ حضور ﷺ کی مجلس میں آپ ﷺ ‘ کو مخاطب کرکے کہتے ذرا ہماری بات سنیے ! ساتھ ہی چپکے سے کہہ دیتے کہ آپ سے سنا نہ جائے ‘ ہمیں آپ کو سنانا مطلوب نہیں ہے۔ اس طرح وہ شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب ‘ ہوتے۔ وَّرَاعِنَا لَیًّام بِاَلْسِنَتِہِمْ رَاعِنَا کا مفہوم تو ہے ہماری رعایت کیجیے لیکن وہ اسے کھینچ کر ‘ رَاعِیْنَابنا دیتے۔ یعنی اے ہمارے چرواہے !وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ ط۔یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر ایسے کلمات کہتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص واقعی نبی ہوتا تو ہمارا فریب اس پر ظاہر ہوجاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو ظاہرکر دیا۔