۞ واعبدوا الله ولا تشركوا به شييا وبالوالدين احسانا وبذي القربى واليتامى والمساكين والجار ذي القربى والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبيل وما ملكت ايمانكم ان الله لا يحب من كان مختالا فخورا ٣٦
۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا ٣٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس سے قبل سورة البقرۃ آیت 83 میں بنی اسرائیل سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر آیا تھا۔ اس میثاق میں جو باتیں مذکور تھیں وہ گویا امہات شریعت یا دین کی بنیادیں ہیں۔ ارشاد ہوا : اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے ‘ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں ‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی ‘ اور لوگوں سے اچھی بات کہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو“۔ اب یہ دوسرا مقام آ رہا ہے کہ شریعت کے اندر جو چیزیں اہم تر ہیں اور جنہیں معاشرتی سطح پر مقدم رکھنا چاہیے وہ بیان کی جا رہی ہیں۔فرمایا :آیت 36 وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا سب سے پہلا حق اللہ کا ہے کہ اسی کی بندگی اور پرستش کرو ‘ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا قرآن حکیم میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا تذکرہ ہے۔ یہ بھی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بہت اہم بنیاد ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ہو ‘ ان کا ادب و احترام ہو ‘ ان کی خدمت کی جائے ‘ ان کے سامنے آواز پست رکھی جائے۔ یہ بات سورة بنی اسرائیل میں بڑی تفصیل سے آئے گی۔ ہمارے معاشرے میں خاندان کے استحکام کی یہ ایک بہت اہم بنیاد ہے۔وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ پہلے عام طور پر محلے ایسے ہی ہوتے تھے کہ ایک قبیلہ ایک ہی جگہ رہ رہا ہے ‘ رشتہ داری بھی ہے اور ہمسائیگی بھی۔ لیکن کوئی اجنبی ہمسایہ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل شہروں میں ہمسائے اجنبی ہوتے ہیں۔وَالصَّاحِبِ بالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا ایک ہمسائیگی عارضی نوعیت کی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً آپ بس میں بیٹھے ہوئے ہیں ‘ آپ کے برابر بیٹھا ہوا شخص آپ کا ہمسایہ ہے۔ نیز جو لوگ کسی بھی اعتبار سے آپ کے ساتھی ہیں ‘ آپ کے پاس بیٹھنے والے ہیں ‘ وہ سب آپ کے حسن سلوک کے مستحق ہیں۔