خواهش كو اپنا معبود بنانے كا مطلب خواهش كو اپني زندگي ميں سب سے برتر مقام دينا هے جو شخص اپني خواهش كے تحت سوچے اور اپني خواهش كے تحت عمل كرے وه گويا اپني خواهش هي كو اپنا معبود بنائے هوئے ہے۔
آدمي كي عقل صحيح اور غلط كو پهچاننے كي كامل صلاحيت ركھتي هے۔ مگر جو شخص اپني عقل كو اپني خواهش كا تابع بنالے اس كا حال يه هوجاتا هے كه اس كے سامنے حق كے دلائل آتے هيں مگر وه ان كے وزن كو محسوس نهيں كرپاتا۔ وه هر بات كے جواب ميں ايك جھوٹي توجيهه پيش كركے اسے ردكرديتا هے۔ آدمي كي يه روش آخر كار اس كي عقلي قوتوں كو مسخ كرديتي هے۔ اس كے كان الفاظ سنتے هيں مگر ان كے معاني تك ان كي پهنچ نهيں هوتي۔ اس كي آنكھ حقيقت كو ديكھتي هے مگر وه اس سے سبق نهيں لے پاتي۔ اس كے دل تك ايك بات پهنچتي هے مگر وه اس كے دل كو تڑپانے والي نهيں بنتي۔
عقلي قوتوں كو خدا نے هدايت كے داخله كا دروازه بنايا هے۔ مگر جو شخص اپني خواهش پرستي ميں ان دروازوں كو بند كرلے اس كے اندر هدايت داخل هوگي تو كس راسته سے داخل هوگي۔