آیت 18 { یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِہَا } ”اس قیامت کے لیے جلدی تو وہی مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔“ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْہَا وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہَا الْحَقُّ } ”اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔“ قیامت کے تصور سے اللہ کے مقرب بندوں کے خوف کی کیفیت کا ذکر سورة النور میں یوں آیا ہے : { یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۔ } ”وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں۔“ { اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ } ”آگاہ ہو جائو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں ‘ وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑچکے ہیں۔“