نزل عليك الكتاب بالحق مصدقا لما بين يديه وانزل التوراة والانجيل ٣
نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 3 نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ اس اللہ نے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ جو الْحَیُّ ہے ‘ الْقَیُّوْمُہے۔ اس میں اس کلام کی عظمت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ جان لو یہ کلام کس کا ہے ‘ کس نے اتارا ہے۔ اور یہاں نوٹ کیجیے ‘ لفظ نَزَّلَ آیا ہے ‘ اَنْزَلَ نہیں آیا۔مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یہ تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کی جو اس کے سامنے موجود ہے یعنی تورات اور انجیل کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ قرآن حکیم سابقہ کتب سماویہ کی دو اعتبارات سے تصدیق کرتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی کتابیں تھیں جن میں تحریف ہوگئی۔ دوسرے یہ کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آئے ہیں جو ان کتابوں میں موجود تھیں۔