۞ قل اونبيكم بخير من ذالكم للذين اتقوا عند ربهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وازواج مطهرة ورضوان من الله والله بصير بالعباد ١٥
۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍۢ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ ١٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 15 قُلْ اَؤُنَبِّءُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ تقویٰ یہی ہے کہ تم پر اپنے نفس کا بھی حق ہے جو تمہیں ادا کرنا ہے ‘ لیکن ناجائز راستے سے نہیں۔ تمہارے پیٹ کا بھی حق ہے ‘ وہ بھی ادا کرو ‘ لیکن اکل حلال سے۔ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد کے بھی تم پر حقوق ہیں ‘ جو تمہیں جائز طریقوں سے ادا کرنے ہیں۔ تمہارے جو ملاقاتی آنے والے ہیں ان کا بھی تم پر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رض سے ارشاد فرمایا تھا : فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ‘ وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ‘ وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ‘ وَاِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا 1ان سب کے حقوق ادا کرو ‘ لیکن اللہ سے اوپر کسی حق کو فائق نہ کردینا۔ بس یہ ہے اصل بات عگر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ! اگر یہ حفظ مراتب نہیں ہوگا تو گویا آپ کا دین بھی گیا اور دنیا بھی گئی۔