بلى ان تصبروا وتتقوا وياتوكم من فورهم هاذا يمددكم ربكم بخمسة الاف من الملايكة مسومين ١٢٥
بَلَىٰٓ ۚ إِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ ءَالَـٰفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ ١٢٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہاں قرآن کریم انہیں سکھاتا ہے کہ آخر کار تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹتے ہیں ‘ اور تمام اشیاء ار واقعات میں اصل فیکٹر اللہ کی ذات ہے ‘ فرشتوں کا اتارا جانا تو اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے تاکہ ان کے دل خوش ہوں ‘ ثابت قدم ہوں اور انہیں اطمینان و سکون نصیب ہو ۔ رہی نصرت تو وہ براہ راست اللہ کی جانب سے ہے ‘ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہے ‘ بغیر کسی واسطہ ‘ بغیر کسی وسیلہ اور بغیر کسی سبب کے ۔