حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور اس کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ یہ آپ نے اس وقت کیا جب کہ مسلسل دعوت کے ذریعہ آپ ان پر اتمام حجت کرچکے تھے۔ جب انھوں نے دلائل سے بتوں کا بے حقیقت ہونا تسلیم نہیں کیا تو بتوں کو توڑ کر آپ نے عمل کی زبان میں بتایا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہوتی تو وہ اپنے آپ کو توڑے جانے سے بچا لیتے۔
آپ کی اس آخری کارروائی کے بعد قوم نے بھی اپنی آخری کارروا ئی کی۔ انھوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن (عراق) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت آپ نے دعا کی کہ خدایا تو میرے یہاں صالح اولاد پیدا کر تاکہ میں اس کو تعلیم وتربیت کے ذریعہ مومن ومسلم بناؤں اور وہ میرے بعد دعوت توحید کا تسلسل جاری رکھے۔