آیت 45 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے ‘ توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیات آفاقیہ آلاء اللہ اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ ایام اللہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورة کی آیت 9 کی تشریح