واية لهم انا حملنا ذريتهم في الفلك المشحون ٤١ وخلقنا لهم من مثله ما يركبون ٤٢ وان نشا نغرقهم فلا صريخ لهم ولا هم ينقذون ٤٣ الا رحمة منا ومتاعا الى حين ٤٤
وَءَايَةٌۭ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ٤١ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ ٤٢ وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ ٤٣ إِلَّا رَحْمَةًۭ مِّنَّا وَمَتَـٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ ٤٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
ہماری دنیا میں خشکی بھی ہے اور سمندر بھی۔ اور ہمارے اوپر وسیع فضا بھی۔ خدا نے اس دنیا میں ایسے امکانات رکھ دئے ہیں کہ آدمی تینوں میں سے کسی حصہ میں بھی سفر سے عاجز نہ ہو۔ وہ خشکی میں اور پانی اور فضا میں یکساں طورپر سفر کرسکے۔
یہ تمام سفر سراسر خدا کے انتظام کے تحت ممکن ہوتے ہیں۔ یہ انسان کےلیے اتنی بڑی رحمت ہیں کہ انسان اگر ان پر غور کرے تو وہ بالکل اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دے، اور کبھی سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔