آیت 14 { اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ } ”اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے۔“ { وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَـکُمْ } ”اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کرسکتے۔“ جیسے کہ وہ لوگ فرشتوں کو بھی اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ چناچہ اگر فرشتہ سن بھی لے کہ مجھے پکارا جا رہا ہے تو وہ اس پکارنے والے کی حاجت روائی تو نہیں کرسکتا۔ { وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ } ”اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔“ { وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ } ”اور نہیں آگاہ کرے گا کوئی بھی آپ کو اس اللہ کی طرح جو ہرچیز سے باخبر ہے۔“ اللہ تعالیٰ چونکہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے اس لیے جس طرح وہ آپ ﷺ کو حقائق سے آگاہ کر رہا ہے کوئی دوسرا اس طرح کی آگاہی فراہم نہیں کرسکتا۔