آیت 48 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے باطل کو ‘ وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 18 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌط } ”بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ مٹ جاتا ہے“۔ آیت زیر مطالعہ کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے ‘ اس لیے یہاں ”یَقْذِفُ بِالْحَقِّ“ کے بعد ”عَلَی الْبَاطِلِ“ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے۔