You are reading a tafsir for the group of verses 33:18 to 33:20
۞ قد يعلم الله المعوقين منكم والقايلين لاخوانهم هلم الينا ولا ياتون الباس الا قليلا ١٨ اشحة عليكم فاذا جاء الخوف رايتهم ينظرون اليك تدور اعينهم كالذي يغشى عليه من الموت فاذا ذهب الخوف سلقوكم بالسنة حداد اشحة على الخير اولايك لم يومنوا فاحبط الله اعمالهم وكان ذالك على الله يسيرا ١٩ يحسبون الاحزاب لم يذهبوا وان يات الاحزاب يودوا لو انهم بادون في الاعراب يسالون عن انبايكم ولو كانوا فيكم ما قاتلوا الا قليلا ٢٠
۞ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ وَٱلْقَآئِلِينَ لِإِخْوَٰنِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ ٱلْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ١٨ أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلْخَيْرِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا ١٩ يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ ۖ وَإِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِى ٱلْأَعْرَابِ يَسْـَٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا۟ فِيكُم مَّا قَـٰتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا ٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔

جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔

دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔