آیت 4 اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط یہاں پر لفظ دُوْنَ مقابلے کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اس کے اس فیصلے کے آڑے نہیں آسکتا۔