آیت 247 وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط۔ ان کا نام تورات میں ساؤل Saul آیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اصل نام ساؤل ہو ‘ لیکن چونکہ وہ بہت قد آور تھے اس لیے ان کا ایک صفاتی نام یا لقب طالوت ہو۔ طالوت کے معنی لمبے تڑنگے کے ہیں۔قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط۔ وہ تو مفلس ہے ‘ اسے تو اللہ تعالیٰ نے زیادہ دولت بھی نہیں دی ہے۔ کیونکہ ان کے معیارات یہی تھے کہ جو دولت مند ہے وہی صاحب عزت ہے۔قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٹہُ عَلَیْکُمْ ۔ یہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ‘ Divine Decision ہے ‘ جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اسی کو تمہاری سرداری کے لیے چنا ہے۔وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ط۔ وہ نہ صرف قد آور اور طاقت ور ہے بلکہ اللہ نے اسے علم اور فہم بھی وافر عطا فرمایا ہے ‘ اسے امور جنگ سے بھی واقفیت ہے۔ تمہارے نزدیک عزت اور سرداری کا معیار دولت ہے ‘ مگر اللہ نے اسے ان دو چیزوں کی بنا پر چنا ہے۔ ایک تو وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور ہے۔ اس دور میں ظاہر بات ہے اس کی بہت ضرورت تھی۔ اور دوسرے یہ کہ اسے علم ‘ فہم ‘ سمجھ اور دانش دی ہے۔ وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآءُ ط۔ اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جس کو چاہے دے ‘ وہ جسے چاہے اپنی طرف سے اقتداربخشے۔وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ اس کی وسعت اتھاہ ہے ‘ کوئی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا ‘ اور وہ بڑا علم رکھنے والا ہے ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو جو کچھ دیتا ہے بربنائے علم دیتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔