فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بينهم فلا اثم عليه ان الله غفور رحيم ١٨٢
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍۢ جَنَفًا أَوْ إِثْمًۭا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٨٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 182 فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو اور دیانت داری کے ساتھ اس کی یہ رائے ہو کہ وصیت کرنے والے نے ٹھیک وصیت نہیں کی ‘ بلکہ بےجا جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے یا کسی کی حق تلفی کر کے گناہ کمایا ہے۔فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ اس طرح کے اندیشے کے بعد کسی نے ورثاء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو ‘ ان کی وصیت تو یہ تھی ‘ لیکن اس میں یہ زیادتی والی بات ہے ‘ اگر تم لوگ متفق ہوجاؤ تو اس میں اتنی تبدیلی کردی جائے ؟فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ط۔ یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ اس وصیت کو ایسا تقدس حاصل ہوگیا کہ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ‘ بلکہ باہمی مشورے سے اور اصلاح کے جذبے سے وصیت میں تغیر و تبدل ہوسکتا ہے