فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”اگر رسول مبعوث کیے بغیر ان پر عذاب آجاتا تو یہ لوگ عذر کرتے کہ ہمیں متنبہ کیوں نہیں کیا گیا ؟ جب ہمارے معاملے میں اتمام حجت نہیں ہوئی تو پھر یہ عذاب ہمارے اوپر کیونکر مسلط کردیا گیا ؟ یہی مضمون سورة طٰہٰ میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَوْ اَنَّآ اَہْلَکْنٰہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”اور اگر ہم اس قرآن کے نزول سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے !“