You are reading a tafsir for the group of verses 26:32 to 26:33
فالقى عصاه فاذا هي ثعبان مبين ٣٢ ونزع يده فاذا هي بيضاء للناظرين ٣٣
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ ٣٢ وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ ٣٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ”واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔