آیت 45 اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ج ”جب رات ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پوری زمین پر ایک سیاہ چادر اوڑھا دی گئی ہے۔وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ج ”اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو پوری زمین پر ہمیشہ رات ہی رہتی ‘ دن کا اجالا کبھی نمودار ہی نہ ہوتا۔ جیسے کہ سورة القصص میں فرمایا گیا : قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ”اے نبی ﷺ ! ان لوگوں سے پوچھئے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لیے تم پر رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟“ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ”تُعْرَفُ الْاَشْیَاءُ بِاَضْدَادِھَا چیزیں اپنی مخالف چیزوں سے پہچانی جاتی ہیں کے مصداق سورج کے وجود سے ہی ہمیں روشنی اور تاریکی کا پتاچلتا ہے۔