ولقد اتوا على القرية التي امطرت مطر السوء افلم يكونوا يرونها بل كانوا لا يرجون نشورا ٤٠
وَلَقَدْ أَتَوْا۟ عَلَى ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِىٓ أُمْطِرَتْ مَطَرَ ٱلسَّوْءِ ۚ أَفَلَمْ يَكُونُوا۟ يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ نُشُورًۭا ٤٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 40 وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ط ”اس سے سدوم اور عامورہ کی بستیاں مراد ہیں جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے ‘ جس کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے۔اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا ج ”سفر شام کے دوران آتے جاتے قریش کے تجارتی قافلے جب ان بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا یہ لوگ انہیں نگاہ عبرت سے نہیں دیکھتے ؟بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ”اصل بات یہ ہے کہ انہیں بعث بعد الموت پر یقین نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے عبرت انگیز حقائق پر سے یہ لوگ بغیر کوئی سبق حاصل کیے اندھوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔