You are reading a tafsir for the group of verses 25:32 to 25:34
وقال الذين كفروا لولا نزل عليه القران جملة واحدة كذالك لنثبت به فوادك ورتلناه ترتيلا ٣٢ ولا ياتونك بمثل الا جيناك بالحق واحسن تفسيرا ٣٣ الذين يحشرون على وجوههم الى جهنم اولايك شر مكانا واضل سبيلا ٣٤
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلْقُرْءَانُ جُمْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَـٰهُ تَرْتِيلًۭا ٣٢ وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَـٰكَ بِٱلْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا ٣٣ ٱلَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُو۟لَـٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ سَبِيلًۭا ٣٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن جب اترا تو وہ بیک وقت ایک پوری کتاب کی شکل میں نہیں اترا بلکہ جزء جزء کرکے 23 سال میںاتارا گیا۔ اس کو منکرین نے شوشہ بنالیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انسان کی کتاب ہے، نہ کہ خدا کی کتاب۔ کیوں کہ خداکے ليے بیک وقت پوری کتاب بنا دینا کچھ مشکل نہیں۔

فرمایا کہ قرآن محض ایک تصنیف نہیں، وہ ایک دعوت ہے۔ اور دعوت کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس کو بتدریج سامنے لایا جائے تاکہ وہ ماحول میں مستحکم ہوتی چلی جائے۔

جو دعوت کامل حق ہو اس کے خلاف ہر اعتراض جھوٹا اعتراض ہوتاہے۔ اس کے خلاف جب بھی کوئی اعتراض اٹھے اور پھر اس کی سچی وضاحت کردی جائے تو اس سے دعوت کی صداقت مزید ثابت ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مشتبہ نہیں ہوتی۔