آیت 48 وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ”منافقین کے اس رویے ّ کا ذکر سورة النساء میں بھی آیا ہے۔ یہ لوگ فیصلوں کے لیے اپنے تنازعات رسول اللہ ﷺ کے بجائے یہودیوں کے پاس لے جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ کے فیصلے مبنی بر انصاف ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان کے خلاف ہی جاتے تھے۔