آیت 33 وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا ”جو لوگ نکاح کرنے کی بالکل استطاعت نہ رکھتے ہوں ‘ یعنی ان کے پاس نہ تو مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہو ‘ نہ نان نفقہ کے لیے کوئی ذریعہ معاش ہو اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے کسی قسم کی چھت کا بندوبست ‘ تو ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرتے رہیں اور اپنی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھیں۔وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ”آقا اور غلام کے درمیان آزادی کے معاہدے کو مکاتبت کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ غلام کی خواہش اور آقا کی رضا مندی سے طے پاتا تھا کہ آقا اگر اپنے غلام کو آزاد کر دے تو وہ ایک مقررہ مدت تک طے شدہ رقم اپنے آقا کو معاوضے کے طور پر ادا کرے گا۔فَکَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًاق ”اگر تم میں سے کسی کو اپنے غلام پر اعتماد ہو کہ وہ اپنا معاہدہ پورا کرے گا اور بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا تو اسے ضرور ایسا معاہدہ کرلینا چاہیے۔ اس حکم سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن نے ہر اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ہر وہ راستہ کھولنے کا اہتمام کیا ہے جس سے تدریجاً غلاموں کو آزادی میسر آئے اور غلامی کا خاتمہ ہو سکے۔وَّاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّال اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰتٰٹکُمْ ط ”یعنی جن غلاموں نے مکاتبت کی ہو تم لوگ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ان کی زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کیا کرو تاکہ وہ جلد از جلد مقررہ رقم ادا کر کے آزاد ہوسکیں۔وَلَا تُکْرِہُوْا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ خود پاک دامن نہ رہنا چاہتی ہوں تو ان کو مجبور کرنے کی اجازت ہے۔ ”اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا“ کی قید یہاں بطورشرط کے نہیں بلکہ صورت واقعہ کی تعبیر کے لیے ہے۔لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط ”عربوں کے ہاں یہ بھی رواج تھا کہ وہ اپنی باندیوں سے پیشہ کرواتے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھاتے تھے۔ چناچہ اس حکم سے زمانہ جاہلیت کی اس شرمناک روایت کو بھی ختم کردیا گیا۔ اسی طرح قبل از اسلام عربوں میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ وہ اپنے باپ کی بیواؤں یعنی سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کرلیا کرتے تھے۔ اس قبیح رسم کے خاتمے کا حکم سورة النساء کی آیت 22 میں دیا گیا ہے۔ گویا قبل از اسلام عرب معاشرے میں جو معاشرتی برائیاں پائی جاتی تھیں ایک ایک کر کے ان کی اصلاح کردی گئی۔وَمَنْ یُّکْرِہْہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْم بَعْدِ اِکْرَاہِہِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ”اگر کوئی اپنی باندی کو بدکاری پر مجبور کرے گا اور خود اس باندی کی مرضی اس میں شامل نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کی مجبوری کے باعث اس کے گناہ کو معاف فرما دے گا اور اس گناہ کا وبال اس پر ہوگا جس نے اسے اس کام کے لیے مجبور کیا ہوگا۔