الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات اولايك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم ٢٦
ٱلْخَبِيثَـٰتُ لِلْخَبِيثِينَ وَٱلْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَـٰتِ ۖ وَٱلطَّيِّبَـٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَـٰتِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ ٢٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ ”یہ ایک اصولی بات فرمائی گئی کہ ناپاک اور بدکردار مردو زن ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں اور پاک باز مرد و زن ایک دوسرے سے طبعی مناسبت رکھتے ہیں۔ اس کی نوعیت بھی درحقیقت ایک اخلاقی تعلیم کی ہے ‘ جیسا کہ قبل ازیں آیت 3 میں بھی اخلاقی تعلیم دی گئی تھی کہ زانی مرد صرف زانیہ یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے اور اسی طرح ایک زانیہ بھی صرف کسی زانی اور مشرک سے ہی نکاح کرے۔ دراصل ان ہدایات سے مراد اور مدعایہ ہے کہ اسلامی معاشرے کا مجموعی مزاج اس قدر پاکیزہ ہو ‘ اس کی اخلاقی حس اتنی جاندار ہو اور اس کی اخلاقی اقدار اس حد تک استوار ہوں کہ کسی بھی غلط کار فرد کے لیے ‘ چاہے وہ مرد ہو یا عورت ‘ مسلم معاشرے میں کوئی جگہ نہ ہو۔ ایسا فرد خود اپنی نظروں میں ذلیل ہو کر معاشرے سے مکمل طور کٹ کر رہ جائے۔