۞ ولو رحمناهم وكشفنا ما بهم من ضر للجوا في طغيانهم يعمهون ٧٥
۞ وَلَوْ رَحِمْنَـٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِم مِّن ضُرٍّۢ لَّلَجُّوا۟ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ٧٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 75 وَلَوْ رَحِمْنٰہُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ”ان الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ اس سورت کے نزول کے زمانہ میں اہل مکہّ کسی مصیبت میں گرفتار تھے۔ سورة الانعام اور سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا ذکر گزر چکا ہے جس کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے تھے اور انہیں مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا کیا جاتا تھا تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور ان کے ذہن حق کی دعوت پر غور و فکر کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔