آیت 31 حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط ”اللہ کی بندگی میں کسی اعتبار اور کسی پہلو سے شرک کا شائبہ تک نہ آنے پائے۔ نہ ذات میں ‘ نہ صفات میں ‘ نہ حقوق میں ‘ نہ اختیارات میں۔وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ”شرک کرنے والے انسان کی مثال ایسے ہے جیسے وہ کسی بلندی پر رسّی کی مدد سے لٹکا ہوا تھا تو اس کی رسّی کٹ گئی اور وہ یکدم تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ”تو ایسے شخص کی اب کیفیت یہ ہے یا تو وہ باز اور عقاب جیسے شکاری پرندوں کے رحم و کرم پر ہوگا یا پھر تیز ہوا کا کوئی جھونکا اسے کسی کھائی میں پٹخ دے گا۔ مشرک کا ایسا انجام اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ کا دامن چھوڑ کر وہ بےسہارا ہوجاتا ہے ‘ جبکہ توحید پرست شخص ایک مضبوط سہارے پر قائم ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 27 میں فرمایا گیا ہے : یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِج ”ثابت قدم رکھتا ہے اللہ اہل ایمان کو قول ثابت کلمۂ توحید کے ساتھ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔“