ان الذين كفروا ويصدون عن سبيل الله والمسجد الحرام الذي جعلناه للناس سواء العاكف فيه والباد ومن يرد فيه بالحاد بظلم نذقه من عذاب اليم ٢٥
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ٱلَّذِى جَعَلْنَـٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلْعَـٰكِفُ فِيهِ وَٱلْبَادِ ۚ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍۢ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٢٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حق کا انکار کرنے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مکہ میں پیش آئی۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی پر امن تبلیغ کو بھی برداشت نہیں کیا۔ انھوںنے آپ کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یک طرفہ طورپر ظلم کا نشانہ بنایا حتی کہ انھوںنے یہ ظلم بھی کیا کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔

مکہ کے لوگوں کی یہ روش انکار پر سرکشی کا اضافہ تھی۔ جو لوگ ایسے ظالمانہ رویہ کا ثبوت دیں ان کے ليے خدا کے یہاں سخت ترین سزا ہے، خواہ وہ ماضی کے ظالم لوگ ہوں یا حال کے ظالم لوگ۔ اور خواہ ان کی سرکشی کا تعلق حضرت ابراہیم کی تعمیر کردہ مسجد سے ہو یا اس وسیع تر ’’مسجد‘‘ سے جس کو خدا نے زمین کی صورت میں اپنے تمام بندوں کے ليے بنایا ہے۔