You are reading a tafsir for the group of verses 18:56 to 18:57
وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرين ويجادل الذين كفروا بالباطل ليدحضوا به الحق واتخذوا اياتي وما انذروا هزوا ٥٦ ومن اظلم ممن ذكر بايات ربه فاعرض عنها ونسي ما قدمت يداه انا جعلنا على قلوبهم اكنة ان يفقهوه وفي اذانهم وقرا وان تدعهم الى الهدى فلن يهتدوا اذا ابدا ٥٧
وَمَا نُرْسِلُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۚ وَيُجَـٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِٱلْبَـٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ ۖ وَٱتَّخَذُوٓا۟ ءَايَـٰتِى وَمَآ أُنذِرُوا۟ هُزُوًۭا ٥٦ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۖ وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوٓا۟ إِذًا أَبَدًۭا ٥٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔

یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔

آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔