ولقد صرفنا في هاذا القران للناس من كل مثل وكان الانسان اكثر شيء جدلا ٥٤ وما منع الناس ان يومنوا اذ جاءهم الهدى ويستغفروا ربهم الا ان تاتيهم سنة الاولين او ياتيهم العذاب قبلا ٥٥
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍۢ جَدَلًۭا ٥٤ وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓا۟ إِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّهُمْ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ قُبُلًۭا ٥٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔
اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔