ووضع الكتاب فترى المجرمين مشفقين مما فيه ويقولون يا ويلتنا مال هاذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا يظلم ربك احدا ٤٩
وَوُضِعَ ٱلْكِتَـٰبُ فَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَـٰوَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا ٱلْكِتَـٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةًۭ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحْصَىٰهَا ۚ وَوَجَدُوا۟ مَا عَمِلُوا۟ حَاضِرًۭا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًۭا ٤٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان جو کچھ کرتا ہے وہ سب خداکے انتظام کے تحت ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آدمی کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کائناتی پردہ پر نقش ہورہے ہیں۔ تاہم یہ انتظام آج دکھائی نہیں دیتا۔ قیامت میں یہ اوٹ ہٹا دی جائے گی۔ اس وقت انسان یہ دیکھ کر دہشت زدہ رہ جائے گا کہ دنیا میں جو کچھ وہ یہ سمجھ کر کر رہا تھا کہ کوئی اس کو جاننے والا نہیں، وہ اتنے کامل طورپر یہاں مندرج ہے کہ اس کی فہرست سے نہ کوئی چھوٹی چیز بچی ہے اور نہ کوئی بڑی چیز۔

قیامت کے دن انسان کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا اس کی ہرچیز اتنی ثابت شدہ ہوگی کہ آدمی جب اپنے عمل کابدلہ پائے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ اس کے ساتھ وہی کیا جارہا ہے جس کاوہ فی الواقع مستحق تھا، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔