وتحسبهم ايقاظا وهم رقود ونقلبهم ذات اليمين وذات الشمال وكلبهم باسط ذراعيه بالوصيد لو اطلعت عليهم لوليت منهم فرارا ولمليت منهم رعبا ١٨
وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًۭا وَهُمْ رُقُودٌۭ ۚ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ ٱلْيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُهُم بَـٰسِطٌۭ ذِرَاعَيْهِ بِٱلْوَصِيدِ ۚ لَوِ ٱطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًۭا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًۭا ١٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ کیا کہ اصحابِ کہف پر مسلسل نیند طاری کردی۔ اسی کے ساتھ ان کی حفاظت کے مختلف انتظامات فرما دیے۔ مثلاً وہ برابر کروٹیں لیتے رہتے تھے۔ کیوں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا جسم زمین کھا جاتی(لَوْ أَنَّهُمْ لَا يُقَلَّبُونَ لَأَكَلَتْهُمُ الْأَرْضُ)تفسیر الطبری، جلد 15 ، صفحہ 191 ۔ ان کے غار کے دہانہ پر ایک کتا مسلسل بیٹھا رہا۔ یہ غالباً اس لیے تھا کہ کوئی انسان یا جانور اندر داخل نہ ہوسکے۔ مزید یہ کہ غار کے اندر خدا نے ایسا پُرہیبت ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی شخص اگر جھانکنے کی کوشش کرے تو پہلی ہی نظر میں دہشت زدہ ہو کر بھاگ جائے۔