۞ وترى الشمس اذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين واذا غربت تقرضهم ذات الشمال وهم في فجوة منه ذالك من ايات الله من يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجد له وليا مرشدا ١٧
۞ وَتَرَى ٱلشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ ٱلْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمْ فِى فَجْوَةٍۢ مِّنْهُ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ ۗ مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيًّۭا مُّرْشِدًۭا ١٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دعوتی دور میں جب اصحاب کہف اور ان کی قوم کے لوگوں کے درمیان کش مکش بڑھی، اسی دوران میں غالباً انھوںنے امکانی اندیشہ کے پیش نظر ایک مخصوص غار کا انتخاب کرلیا تھا۔ یہ غار اتنا وسیع تھا کہ سات آدمی بآسانی اس کے اندر قیام کرسکیں۔مزید یہ کہ غالباً وہ شمال رُویہ تھا۔ اس بنا پر سورج کی روشنی صبح یا شام کسی وقت بھی براہِ راست اس کے اندر نہیں پہنچتی تھی اور ادھر سے گزرنے والا کوئی شخص باہر سے دیکھ کر یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کچھ انسان موجود ہیں۔

جب آدمی ایسا کرے کہ حق کے معاملے میں مصلحت کا رویہ نہ اختیار کرے۔ مشکل ترین حالات میں بھی وہ صبر وشکر کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رہے تو خدا اس کو ایسے راستوں کی طرف رہنمائی فرماتا ہے جس میںاس کا ایمان بھی محفوظ رہے اور وہ اپنے دعوتی مشن کو بھی نہ کھوئے۔ یہ نصرت اصحابِ کہف کو ان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے پوری طرح حاصل ہوئی۔

مزید یہ کہ خدا نے ان کو اپنے خاص کام کے لیے چن لیا۔ انھوںنے جس روحانی بلندی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد وہ خدا کی نظر میں اس قابل ہوگئے کہ ان کو زندگی بعد موت کا حسی ثبوت بنادیا جائے— اصحاب کہف کا دو سوسال (يا اس سے زياده مدّت) تک سوکر دوبارہ اٹھنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔