واذ اعتزلتموهم وما يعبدون الا الله فاووا الى الكهف ينشر لكم ربكم من رحمته ويهيي لكم من امركم مرفقا ١٦
وَإِذِ ٱعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأْوُۥٓا۟ إِلَى ٱلْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَيُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًۭا ١٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

بندہ جب حق کی خاطر انسانوں سے کٹتا ہے تو عین اسی وقت وہ خدا سے جڑ جاتاہے۔ حتی کہ وہ اپنے رب سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنے رب سے کلام کرتاہے اور اس سے اس کا جواب پاتا ہے۔

اصحابِ کہف کا نومسلمانہ یقین، ان کی بے خوف تبلیغ، ان کا سب کچھ چھوڑنے پر راضی ہوجانا مگر حق کونہ چھوڑنا، ان چیزوں نے ان کو قربت خداوندی کا اعلیٰ مقام عطا کردیا تھا۔ وہ بظاہر جو کچھ کھورہے تھے، اس سے زیادہ بڑی چیز ان کے لیے وہ تھی جس کو انھوں نے پایا تھا۔ یہی یافت کا وہ احساس تھا جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ ہر دوسری چیز کی محرومی گوارا کرلیں مگر حق سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ وہ اپنے گھر اور شہر کو چھوڑ کر غار میں چلے جائیں اور پھر بھی ان کی یہ امید باقی رہے کہ ان کا خدا ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان کے حالات کو درست کردے گا۔

ابنِ جریر نے عطا کے حوالے سے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی۔ وہ غار میں داخل ہو کر عبادت کرتے رہتے اور روتے اور اللہ سے مدد مانگتے (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 148 )، یہاںتک کہ بالآخر خدانے ان پر لمبی نیند طاری کردی۔