آیت 101 الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًاوہ لوگ جو اندھے اور بہرے ہو کر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے حقیقی مسبب الاسباب کو بالکل فراموش کرچکے تھے صرف دنیوی اسباب و وسائل پر بھروسا کرتے تھے اور دنیا میں ان کی ساری تگ و دو مادی منفعت کے حصول کے لیے تھی۔ یہی مضمون اگلے آخری رکوع میں بہت تیکھے انداز میں آ رہا ہے۔