۞ اولم يروا ان الله الذي خلق السماوات والارض قادر على ان يخلق مثلهم وجعل لهم اجلا لا ريب فيه فابى الظالمون الا كفورا ٩٩
۞ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًۭا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّـٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورًۭا ٩٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
زمین وآسمان ہمارے سامنے ایک حقیقت کے طورپر موجود ہیں۔ ہم ان کا انکار نہیں کرسکتے۔ یہ موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہاں کوئی زندہ ہستی ہے جو یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ پہلی بار تخلیق کرے، وہ نہیں سے ہے کو وجود میں لائے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی تخلیق کو ماننے کے بعد دوسری تخلیق کو ماننے میں کوئی علمی وعقلی دلیل مانع نہیں رہتی۔
اتنے کھلے ہوئے قرینہ کے باوجود جو شخص تخلیقِ ثانی کو نہ مانے وہ ظالم ہے۔ وہ ہٹ دھرمی کی زمین پر کھڑا ہوا ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی زمین پر۔