You are reading a tafsir for the group of verses 17:97 to 17:98
ومن يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجد لهم اولياء من دونه ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم عميا وبكما وصما ماواهم جهنم كلما خبت زدناهم سعيرا ٩٧ ذالك جزاوهم بانهم كفروا باياتنا وقالوا ااذا كنا عظاما ورفاتا اانا لمبعوثون خلقا جديدا ٩٨
وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِهِۦ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًۭا وَبُكْمًۭا وَصُمًّۭا ۖ مَّأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَـٰهُمْ سَعِيرًۭا ٩٧ ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًۭا وَرُفَـٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًۭا جَدِيدًا ٩٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔

’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔