افامنتم ان يخسف بكم جانب البر او يرسل عليكم حاصبا ثم لا تجدوا لكم وكيلا ٦٨ ام امنتم ان يعيدكم فيه تارة اخرى فيرسل عليكم قاصفا من الريح فيغرقكم بما كفرتم ثم لا تجدوا لكم علينا به تبيعا ٦٩
أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ ٱلْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًۭا ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ وَكِيلًا ٦٨ أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًۭا مِّنَ ٱلرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِۦ تَبِيعًۭا ٦٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔
سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔