ولا تجعل يدك مغلولة الى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا ٢٩
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ ٱلْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًۭا مَّحْسُورًا ٢٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 29 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔