You are reading a tafsir for the group of verses 16:96 to 16:97
ما عندكم ينفد وما عند الله باق ولنجزين الذين صبروا اجرهم باحسن ما كانوا يعملون ٩٦ من عمل صالحا من ذكر او انثى وهو مومن فلنحيينه حياة طيبة ولنجزينهم اجرهم باحسن ما كانوا يعملون ٩٧
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍۢ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٩٦ مَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٩٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کے داعی کا ساتھ دینا رواج یافتہ مذہبی نظام کو چھوڑ کر غیر رواجی مذہب کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنا ہے۔ اس طرح کا اقدام ہمیشہ آدمی کے لیے مشکل ترین ہوتا ہے۔ اس میں اس فائدہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے جو انسانوں سے مل رہا ہے۔ اور اس فائدہ کی طرف بڑھنا ہوتاہے جو خدا سے ملنے والا ہے۔

اس قسم کا فیصلہ کرنے کے لیے واحد چیز جو درکار ہے وہ ’’صبر‘‘ ہے۔ یعنی یہ برداشت کہ آدمی کل کے فائدہ کی خاطر آج کا نقصان گوارا کرسکے۔ یہ صلاحیت کہ آدمی نظر آنے والی چیز کے مقابلہ میں اس کو زیادہ اہمیت دے سکے جو نظر نہیںآتی۔ یہ حوصلہ کہ آدمی قربانی کی قیمت پر کسی چیز کو اختیار کرے، نہ کہ محض فوری نفع کی قیمت پر۔ خدا کے جو بندے اس اولوالعزمی کا ثبوت دیں یقینا وہ اس قابل ہیں کہ خدا ان کو اپنی اعلیٰ ترین نعمتوں سے نوازے۔

جو افراد بے آمیز حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مروجہ نظام میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان کو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ برباد ہوگئے۔ مگر خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو ان کی قربانیوں کا بھر پور معاوضہ دے گا۔ موت کے بعد کی ابدی دنیا میں وہ انھیں نہایت بہتر زندگی سے نوازے گا۔ جن چیزوں کو انھوں نے وقتی طورپر کھویا ہے، ان کو وہ زیادہ بہتر شکل میں ابدی طور پر دے دے گا۔

خدا کا یہ وعدہ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ مردوں کے لیے ہے۔ خدا کے یہاں جزا کے معاملہ میں عورت اور مرد کی کوئی تقسیم نہیں۔