ويوم نبعث في كل امة شهيدا عليهم من انفسهم وجينا بك شهيدا على هاولاء ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء وهدى ورحمة وبشرى للمسلمين ٨٩
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ تِبْيَـٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ٨٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قوم پر انذار و تبشیر کا کام خود اس قوم کے کسی منتخب فرد کے ذریعہ انجام دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم میں جو پیغمبر آئے وہ خود اسی قوم کے ایک فرد تھے۔ اب امت مسلمہ کو قیامت تک اسی طرح ہر قوم کے اندر دعوت وشہادت کی ذمہ داری انجام دینا ہے۔

یہ دنیا میں قوموں کو دعوت دینے والے آخرت میں قوموں کے اوپر خدا کے گواہ ہوں گے۔ انھیں کی گواہی پر قوم کے ہر فرد کے لیے ثواب یا عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔

قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے— اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری آسمانی کتابوں میں ہر چیز کا بیان نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب جو خدا کی طرف سے آئی اس میں ہر چیز کا بیان موجودتھا۔ تاہم اس ہر چیز کا تعلق دنیا کے علوم وفنون سے نہیں ہے بلکہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی کے علم سے ہے۔ وہ تمام چیزیں جو آخرت میں کسی کو کامیاب یا ناکام بنانے والی ہیں وہ سب اصولی طورپر قرآن میں بیان کردی گئی ہیں۔ اب جو لوگ اس سے ہدایت لیں گے، ان کے لیے وہ ایک عظیم نعمت بن جائے گی۔ اور جو لوگ اس سے ہدایت نہ لیں ان کے حصہ میں صرف یہ آئے گا کہ وه اس کا انکار کرکے اپنی ہلاکت کے لیے وجہ جواز فراہم کردیں۔