You are reading a tafsir for the group of verses 16:68 to 16:69
واوحى ربك الى النحل ان اتخذي من الجبال بيوتا ومن الشجر ومما يعرشون ٦٨ ثم كلي من كل الثمرات فاسلكي سبل ربك ذللا يخرج من بطونها شراب مختلف الوانه فيه شفاء للناس ان في ذالك لاية لقوم يتفكرون ٦٩
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ٦٨ ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًۭا ۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌۭ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌۭ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ٦٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہاں ایک مادی مثال کی صورت میں معنوی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔شہد کی مکھی خدا کی قدرت کا ایک حیرت ناک شاہکار ہے۔ وہ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتہائی معیاری قسم کا چھتہ (honeycomb) بناتی ہے۔ پھر خاص منصوبہ بند انداز میں پھولوں کا رس (nectar)چوس کر لاتی ہے۔ اس کو ایک کامل ترین نظام کے تحت چھتوں میں اکٹھا کرتی ہے۔ پھر عین قوانین صحت کے مطابق شہد جیسی قیمتی چیز تیار کرتی ہے، جو انسان کے لیے غذا بھی ہے اور علاج بھی۔یہ سب کچھ اتنے عجیب اور اتنے منظم انداز میں ہوتا ہے کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں، پھر بھی اس کا بیان مکمل نہیں ہوا۔شہد کی یہ خدائی فیکٹری تمام انسانی کارخانوں سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ کامیاب ہے۔ تاہم بظاہر وہ ایسی مکھیوں کے ذریعہ چلایا جارہا ہے جنھوں نے کہیں اس فن کی تعلیم نہیں پائی۔ حتیٰ کہ ان کو اپنے اعمال کا ذاتی شعور بھی حاصل نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کروانے والا ہے جو اپنی مخفی ہدایات کے ذریعہ مکھیوں سے یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اگر کوئی دیکھنے والا دیکھے تو وہ ان کی حیران کن حد تک بامعنی سرگرمیوں میں خدا کی کارفرمائی کا زندہ مشاہدہ کرنے لگے گا۔شہد کی مکھی کی مثال دینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس پراسس میں شہد کی مکھی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے پھولوں کے پاس پہنچ کر صرف اس کا نکٹر لیتی ہے، کسی اور چیز میں ڈسٹریکٹ نہیں ہوتی۔ یہی تدبر ہے۔ یہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے، مگر اس میں ہر جگہ حکمت و معرفت کے نِکٹر چھپے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل و تدبر کی صلاحیت ملی ہوئی ہے، جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔انسان کو چاہیے کہ وہ کائنات میں غور وفکر کے ذریعہ حکمت و معرفت کا نکٹر حاصل کرے ۔ جو طریقہ شہد کی مکھی کے لیے ’’رس‘‘ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، وہی انسان کی سطح پر پہنچ کر ’’معرفت‘‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس میں انسان کی روح کی غذا بھی ہے اور اس کی اخلاقی بیماریوں کا علاج بھی ۔