You are reading a tafsir for the group of verses 16:51 to 16:52
۞ وقال الله لا تتخذوا الاهين اثنين انما هو الاه واحد فاياي فارهبون ٥١ وله ما في السماوات والارض وله الدين واصبا افغير الله تتقون ٥٢
۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَـٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَإِيَّـٰىَ فَٱرْهَبُونِ ٥١ وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ ٥٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پیغمبروں کے ذریعہ خدا نے انسان کو اس سے ڈرایا ہے کہ وہ ایک معبود کے سوا دوسرے معبود اپنے لیے بنائے۔ اس کائنات کا معبود صرف ایک ہے۔ اسی سے آدمی کو ڈرنا چاہیے۔ اس کو صرف اسی کی تابع داری کرنا چاہیے۔

اگر آدمی کو اس بات کا صحیح ادراک ہوجائے کہ خدا ہی انسان کا اور تمام موجودات کا خالق ومالک ہے۔ اسی پر اس کی زندگی کا سارا دارومدار ہے تو اس ادراک کے لازمی نتیجہ کے طورپر جو کیفیت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اسی کا نام تقویٰ ہے۔

زمین وآسمان میں خدا ہی کی دائمی اطاعت ہے۔ یہاں ہر چیز مکمل طورپر قانونِ خداوندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی اور سے امید قائم کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ موجودہ کائنات ایسے شرک کو قبول کرنے سے سراسر انکار کرتی ہے۔